مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین کاظم صدیقی کی امامت میںم نعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی۔ خطیب جمعہ نے یورپی ممالک کو امریکہ کا پیروکار اور تابع قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدہ پہلے سے ہی ناقص اورناکام معاہدہ تھا۔
خطیب جمعہ نے امریکہ کی طرف سے عہد شکنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے عالمی معاہدوں کو توڑ کر عالمی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالدیا ہے ، امریکہ عالمی برادری کو اپنا تابع بنانا چاہتا ہے اور وہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں اس نے روس اور چین کے خلاف بھی اقتصادی اور عسکری محاذ کھول رکھے ہیں۔
خطیب جمعہ نے کہا کہ جب امریکہ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہونے کی دھمکی دی تھی تو رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے فرمایا تھا" ہم اس کو آگ لگا دیں گے " اور رہبر معظم انقلاب اسلامی آج بھی اپنے اسی عزم پر قائم ہیں کیونکہ مشترکہ ایٹمی معاہدہ ابتدا ہی سے ناقص اور ناکام معاہدہ تھا۔
خطیب جمعہ نے کہا کہ امریکہ کومشترکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوئے ایک سال ہوگیا ہے جبکہ اس ایک سال کے عرصہ میں یورپی ممالک نے بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا اور یورپی ممالک عملی طور پر امریکہ کے پیروکار اور تابع ہیں۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ یورپی ممالک بھی مشترکہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور وہ صرف ایران کو معاہدے پر باقی رہنے کی سفارش کرتے ہیں ،لیکن وہ خود مشترکہ ایٹمی معاہدے میں کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔ حجۃ الاسلام صدیقی نے کہا کہ ایران نے یورپی ممالک کو جو مہلت دی تھی وہ ختم ہوگئی ہے اور اب انھیں مزید مہلت نہیں دینی چاہیے اور مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں ہمیں بھی ٹھوس اور منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ